Breaking Tickers

Bande maan rahe hain,Allah nahi maan raha

Bande maan rahe hain,Allah nahi maan raha 

Waqt rahte Rab ko raazi karlo warna der ho jayegi
Bande Raazi par Allah nahi 

بندوں کی اللّٰہ سے صلح 

اِس تحریر Bande maan rahe hain,Allah nahi maan raha کو ضرور پڑھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں شاید آپ کی یا کسی اور کی رہنمائی کا ذریعہ بن جائے۔ 
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک فقیر بازار کے بیچوں بیچ کھڑا بندوں کی اللّٰہ سے صلح کروا رہاتھا۔ اور لوگوں کے ہجوم میں کھڑا بلند آواز سے اُن کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا.اس کی آواز بلند اور دل میں اتر جانے والی تھی۔ وہ پکار رہا تھا:
    "اے اللہ کے بندوں! باز آجاؤ، ابھی وقت ہے، اپنے گناہوں سے توبہ کر لو۔لوٹ آؤ اللّٰہ کی طرف,یہ دنیا چند دن کا سامان ہے .یہ زندگی ختم ہو جانے والی ہے.ہمیشہ کی زندگی اللّٰہ کے پاس ہے.اللہ غفور الرحیم ہے، وہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا, بخش دےگا۔" پتہ نہیں کب اللّٰہ کا بلاوا آجائے اور سانسیں رک جائے،زندگی تھم جائے اور پھر مہلت نہ ملے. لوٹ آؤ, لوٹ آؤ اللّٰہ کی طرف. یہ بلند آواز مسلسل جیسے فضاء میں گونج رہی تھی.

    پر افسوس! لوگ اس کی طرف متوجہ تو ہوتے، مگر اکثر بے نیازی سے گزر جاتے۔ کچھ ہنستے، کچھ طنز کرتے، اور کچھ بس نظر انداز کر دیتے۔

    اللّٰہ تو مان رہا ہے ، بندے نہیں مان رہے ہیں 

    ایک دن کی بات ہے کہ جب فقیر لوگوں کو آگاہ کر رہا تھا کہ اسی دوران بادشاہ وقت وہاں سے گزر رہا تھا۔ فقیر کی آواز نے بادشاہ کے دل کو جھنجھوڑا۔ وہ اپنی سواری سے نیچے اترا اور فقیر کے قریب آ کر پوچھا:
    "اے فقیر، یہ تم کیا کر رہے ہو؟"

    فقیر نے مسکرا کر جواب دیا:
    "میں اللہ کے Bandon ki Allah se Sulah کروا رہا ہوں۔ اللہ تو اپنے بندوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہے، مگر بندے ہیں کہ اپنی ضد اور گناہوں سے باز نہیں آ رہے۔"
    بادشاہ نے فقیر کے الفاظ پر غور کیا اور وہاں سے چلا گیا، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو گئی۔

    بندے تو مان رہے ہیں، اللّٰہ نہیں مان رہا ہے

    وقت گزرتا گیا اور کچھ دن کے بعد بادشاہ کی گزر ایک قبرستان کے راستے سے ہو رہی تھی کے اچانک اُس کی نظر قبرستان کی طرف پڑی تو اس نے اس فقیر کو قبرستان میں بیٹھے دیکھا۔ وہ قبر کے قریب بیٹھا دعا میں مشغول تھا۔ بادشاہ اُسے دیکھ کر پہچان گیا.بادشاہ سواری سے اُترا اور اس کے قریب جا کر دریافت کیا کہ:
    "اے فقیر، یہاں کیا کر رہے ہو؟"
    فقیر نے ایک گہری سانس لی اور جواب دیا:
    "یہاں بھی آج میں Bandon ki Allah se Sulah کروا رہا ہوں۔ پر افسوس! کہ اب Bande maan rahe hain,Allah nahi maan raha ہے۔ اب بندے تو ماننے کو تیار ہیں، لیکن اب اللہ نہیں مان رہا ہے ,اللّٰہ راضی نہیں ہو رہا ہے۔"
    فقیر کی یہ بات عجیب لگی اُسے.بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:
    "یہ کیا بات ہوئی؟"

    فقیر نے کہا:
    "جب بندہ زندہ ہوتا ہے تو وہ اپنی اصلاح کی فرصت کو نظر انداز کر دیتا ہے، اللہ بار بار موقع دیتا ہے کہ وہ توبہ کرے، اپنی زندگی سنوارے۔ لیکن جب بندہ دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، تو اس کے پاس کچھ باقی نہیں رہتا۔ اب بندے کی توبہ قبول ہونے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اللہ نے جو موقع دیا تھا، وہ گزر گیا۔"

    یہ بات سن کر بادشاہ پر خوف طاری ہو گیا۔ اس نے فقیر سے دعا کی درخواست کی اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کا عہد کیا۔

    اہم سبق: 

    آخر میں فقیر نے ایک بہت اہم بات کہی:
    "اے بادشاہ، یہ بات صرف تمہارے لیے نہیں، بلکہ ہر انسان کے لیے ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں ہی اللہ کی طرف لوٹ آئیں، اللّٰہ کو راضی کر لیں.کیونکہ اسی میں ہماری بھلائی اور آخرت کی کامیابی و ہمیشگی والی زِندگی ہے۔" جب وقت نکل گیا تو پھر لوٹ کر نہیں آنے والا.زندگی بار بار موقع نہیں دیتی ہے.
    یہ کہانی Bande maan rahe hain,Allah nahi maan raha  ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ وقت بہت قیمتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کو غنیمت جانتے ہوئے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ موت کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔


    Conclusion:


    یہ کہانی Bande maan rahe hain,Allah nahi maan raha  ہمیں زندگی کی حقیقت اور توبہ کی اہمیت سمجھاتی ہے۔ ایک فقیر نے لوگوں کو گناہوں سے باز آنے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے اور Bandon ki Allah se Sulah کروانے کی تلقین کی۔ فقیر کا کہنا تھا کہ اللہ اپنے بندوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اکثر بندے اپنی زندگی میں توبہ نہیں کرتے۔ جب انسان مر جاتا ہے تو توبہ کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی میں اللہ کی بات ماننا اور گناہوں سے باز آنا ہی ہماری کامیابی کا راز ہے۔اور اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے.

    *•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*

    ✍️ By Mohib Tahiri  

    (Islahi Islamic Writer)

    👍🏽 ✍🏻 📩 📤 🔔

              Like | Comment | Save | Share | Subscribe




    FAQs:

    سوال 1: فقیر بازار میں کیا کہہ رہا تھا؟
    جواب: فقیر بازار میں کہہ رہا تھا: "اے اللہ کے بندے! باز آجا، ابھی وقت ہے، اپنے گناہوں سے توبہ کر لے۔"

    سوال 2: بادشاہ نے فقیر سے بازار میں کیا سوال کیا؟
    جواب: بادشاہ نے فقیر سے پوچھا: "یہ تم کیا کر رہے ہو؟"

    سوال 3: فقیر نے بادشاہ کو بازار میں کیا جواب دیا؟
    جواب: فقیر نے کہا: "میں اللہ کے بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔ اللہ تو مان رہے ہیں، بندے نہیں مان رہے۔"

    سوال 4: فقیر قبرستان میں کیا کر رہا تھا؟
    جواب: فقیر قبرستان میں بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اب بندے تو مان رہے ہیں، لیکن اللہ نہیں مان رہے۔

    سوال 5: کہانی کا مرکزی سبق کیا ہے؟
    جواب: کہانی کا سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ہی اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے، کیونکہ موت کے بعد توبہ کا موقع نہیں ملتا۔

    سوال 6: فقیر نے بادشاہ کو کیا نصیحت کی؟
    جواب: فقیر نے بادشاہ کو نصیحت کی کہ اپنی زندگی میں اللہ کی بات مان لو، کیونکہ اسی میں بھلائی اور کامیابی ہے۔

    *•┈━━━━•❄︎•❄︎•━━━━┈•*

    Post a Comment

    0 Comments