Zindagi mein har insaan se ghalti aur gunaah ho jata hai. Koi bhi bashar gunaahon se bilkul paak nahi, siwaye Anbiya-e-Kiraam ke. Lekin behtareen insaan wahi hai jo gunaah ke baad Gunaahon Se Nijaat ke liye Allah ki taraf rujoo kare, sacchi taubah kare aur dobara seedhe raaste par chalne ki koshish kare.
Yahi asal mein Gunaahon se Nijaat paane ka zariya hai.
 |
Sheikh Ibrahim bin Adham ki hikmat bhari nasihatein |
Isi haqeeqat ko bohat hi hikmat bhare andaaz mein Sheikh Ibrahim bin Adham ne ek buzurg shakhs ko samjhaya, jo apni bad-aadaaton
aur gunaahon se chutkara chahta tha.
Ek buzurg shakhs Sheikh Ibrahim bin Adham ke paas aaye aur arz ki:
“Main bohat bada gunaahgaar hoon. Chahta hoon ke gunaah chhor doon, magar nafs par qaabu nahi rehta. Koi aisi naseehat farma dijiye jo mere dil ko narm kar de aur mujhe gunaahon se nijaat ka raasta dikha de.”
Sheikh ne farmaya:
“Main tumhein kuch baatein batata hoon. Agar un par ghaur kar loge, to gunaah chhoot jaayenge.”
Sheikh Ibrahim bin Adham ne farmaya:
“Jab bhi gunaah ka irada karo, to pehle yeh soch lo ke aaj se Allah ka rizq nahi khaoge.”
Buzurg hairan ho gaye aur bole:
“Phir main kya khaunga?”
Sheikh ne jawab diya:
“Yeh kitni buri baat hai ke tum Allah ka rizq bhi khao aur usi ke hukmon ki nafarmaani bhi karo!”
Hum jo kuch bhi khate, peete aur pehente hain, sab Allah ka diya hua rizq hai. Phir usi Rab ki nafarmaani karna shukr ke khilaaf hai.
Rasoolullah ﷺ ne farmaya:
“Jo banda ikhlaas ke sath taubah karta hai, Allah usay maaf farma deta hai, chahe gunaah baar baar ho.”
📖 (Sahih Muslim)
Buzurg ne phir arz ki:
“Ek aur nasihat farma dijiye.”
Sheikh ne farmaya:
“Jab gunaah ka irada karo to Allah ki zameen se bahar nikal jao.”
Buzurg bole:
“Yeh kaise mumkin hai? Allah ki zameen se bahar kahan jaa sakta hoon?”
Sheikh ne farmaya:
“Phir yeh kaise theek ho sakta hai ke tum Allah ki zameen par raho aur usi ki nafarmaani karo?”
Allah Ta‘ala farmata hai:
“Aur Allah ki zameen wasee‘ hai.”
📖 (Surah Az-Zumar 39:10)
Aur farmaya:
“Wohi hai jisne tumhare liye zameen ko taabe‘ kar diya.”
📖 (Surah Al-Mulk 67:15)
Insaan kahin bhi chala jaye, Allah ki hukoomat se bahar nahi ja sakta. Phir kyun na usi ki itaat ikhtiyar ki jaye?
Buzurg ne teesri nasihat maangi.
Sheikh ne farmaya:
“Agar gunaah karna hi hai to aisi jagah jao jahan Allah tumhein na dekh sake.”
Buzurg foran bole:
“Yeh to na-mumkin hai! Allah har jagah dekh raha hai.”
Sheikh ne farmaya:
“Phir yeh kaise theek hai ke tum jante hue gunaah karo jab ke Allah tumhein dekh raha hai?”
Allah Ta‘ala ka irshad hai:
“Beshak Allah tum par nigrani rakhne wala hai.”
📖 (Surah An-Nisa: 1)
Buzurg ne poocha:
“Chauthi nasihat kya hai?”
Sheikh ne farmaya:
“Jab Malakul Maut aaye, to us se keh dena ke mujhe thoda waqt de do taake main taubah kar loon.”
Buzurg afsos se bole:
“Yeh mumkin nahi, maut waqt nahi deti.”
Sheikh ne farmaya:
“Phir tum apni zindagi mein taubah ka waqt kyun zaya kar rahe ho?”
Allah Ta‘ala farmata hai:
📖 Surah Al-Mu’minoon 99–100
“Jab maut aati hai to insaan kehta hai:
‘Aye mere Rab! Mujhe wapas bhej de taake main nek amal kar loon.’
Magar us waqt wapas jaana mumkin nahi hota.”
In nasihaton ko sun kar woh buzurg shakhs badal gaya aur neki ki raah par aa gaya.
Yeh yaad rakhein:
Allah Ta‘ala farmata hai:
📖 Surah Az-Zumar 53
“Aye mere bandon! Allah ki rehmat se mayoos na ho, beshak Allah sab gunaah maaf kar deta hai.”
Aur farmata hai:
📖 Surah Aal-e-Imran 135
“Jab woh koi gunaah kar baithte hain to foran Allah ko yaad karte hain aur maafi maangte hain.”
Yeh duniya imtihaan ki jagah hai. Gunaah ho jana fitri baat hai, lekin gunaah par sharminda hona aur Allah ki taraf laut aana hi Gunaahon se Nijaat ka asal zariya hai.
Sheikh Ibrahim bin Adham ki nasihatein humein yahi sikhati hain ke:
To phir humein chahiye ke:
✔️ Taubah ko taakhir na karein
✔️ Gunaah ko gunaah samjhein
✔️ Allah ki rehmat se umeed rakhein
Allah Ta‘ala humein sacchi taubah, nek aamaal aur gunaahon se nijaat naseeb farmaye. Aameen.
Jawab:
Jee haan, jab tak banda ikhlaas ke sath taubah karta rahe, Allah maaf karta rehta hai۔
Jawab:
Nahi, lekin yaqeen rakhein ke Allah sab gunaah maaf karne wala hai۔
Jawab:
زندگی میں ہر انسان گناہ کرتا ہے، مگر بہترین انسان وہی ہے جو گناہ کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرے، معافی مانگے، اور دوبارہ سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرے یہی Gunaahon se Nijaat pane ka zariya ہے۔ اور یہی پیغام شیخ ابراہیم بن ادہم نے ایک بوڑھے شخص کو دیا، جو اپنے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا۔
دوسری نصیحت: اگر گناہ کرنا چاہتے ہو، تو اللہ کی زمین چھوڑ دو
بوڑھے نے درخواست کی کہ ایک اور نصیحت کیجئے
شیخ نے فرمایا:
"جس وقت گناہ کا ارادہ کرو، تو اللہ کی زمین سے باہر نکل جاؤ!"
بوڑھے نے حیرت سے پوچھا:
"یہ کیسے ممکن ہے؟ اگر میں اللہ کی زمین سے باہر نہ جاؤں، تو کہاں جاؤں؟"
شیخ نے جواب دیا:
"پھر یہ کتنی بری بات ہے کہ تم اللہ کی زمین میں رہو اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کرو!"
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ(اور اللہ کی زمین وسیع ہے، صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔)— (سورۃ الزمر 39:10)
زمین کو اللہ نے انسانوں کے لیے بنایا
هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ ذَلُولًۭا فَٱمْشُوا۟ فِى مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا۟ مِن رِّزْقِهِۦ ۖ وَإِلَيْهِ ٱلنُّشُورُ
(وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر دیا، پس تم اس کے راستوں میں چلو اور اس کے رزق میں سے کھاؤ، اور اسی کی طرف (تمہیں) لوٹ کر جانا ہے۔)— (سورۃ الملک 67:15)
یہ نصیحت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم جہاں بھی جائیں، اللہ کی حکومت اور قبضے سے باہر نہیں جا سکتے۔ پھر کیوں نہ اسی کی اطاعت کریں؟
تیسری نصیحت: اگر گناہ کرنا چاہتے ہو، تو ایسی جگہ کرو جہاں اللہ نہ دیکھ سکے
بوڑھے نے ایک اور نصیحت کی درخواست کی، تو شیخ نے فرمایا:
"اگر گناہ کرنا ہے، تو ایسی جگہ چھپ کر کرو جہاں اللہ تمہیں نہ دیکھ سکے!"
بوڑھے نے فوراً جواب دیا:
"یہ تو ممکن ہی نہیں! اللہ ہر چیز کو دیکھتا ہے!"
شیخ نے فرمایا:
"پھر یہ کتنی بری بات ہے کہ تم اس کا رزق کھاتے ہو، اس کی زمین پر رہتے ہو، اور جانتے بوجھتے ہوئے گناہ کرتے ہو، حالانکہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے!"
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا" (النساء: 1)
"بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔"
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم جہاں بھی جائیں، جو بھی کریں، اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
چوتھی نصیحت: موت کے وقت مہلت مانگ لینا
بوڑھے نے فرمایا چوٹھی نصیحت کیا ہے ؟
شیخ نے فرمایا:
"جس وقت ملک الموت (موت کا فرشتہ) آئے، تو اس سے کہنا کہ مجھے تھوڑا وقت دے دو تاکہ میں توبہ کرلوں!" اور قیامت کی تیاری سے فارغ ہو سکوں
بوڑھے نے افسردہ ہو کر کہا:
"یہ کیسے ممکن ہے؟ ملک الموت مجھے وقت نہیں دے گا!"
شیخ نے فرمایا:
"پھر یہ کتنی بری بات ہے کہ تم اپنی زندگی میں توبہ کا وقت ضائع کر رہے ہو، جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ موت کسی بھی وقت آسکتی ہے!"
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (99) لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا" (المؤمنون: 99-100)
"یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے، تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے، تاکہ میں نیک عمل کر لوں۔ ہرگز نہیں! یہ صرف ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔"
توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
یہ نصیحتیں سننے کے بعد بوڑھا شخص ہدایت کی روشنی میں آگیا اور نیکوکاروں میں شامل ہوگیا۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب انسان ہیں، اور ہم سب غلطیاں کرتے ہیں۔ مگر سب سے بہترین انسان وہ ہے جو گناہ کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرے اور توبہ کرے۔Gunaahon se Nijaat پاۓ ۔
یہ بات یاد رہے کہ انبیاء کے علاوہ کوئی معصوم عن الخطاء نہیں ہوتا، اور باقی انسان اس زمین پر رہتے ہوئے گناہوں میں ملوث نہ ہوں یہ ہو نہیں سکتا، گناہ ہو جاتے ہیں، ہاں البتہ گناہ کو گناہ سمجھنا چاہئے، اس کی تشہیر نہ کی جائے، اور اللہ سے معافی بھی مانگتے رہنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا" (الزمر: 53)
"اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔"
اور
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿١٣٥﴾۔۔۔سورة آل عمران
ترجمه: جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، فیالواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وه لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے
تو لہذا گناہ تو ہوں گے لیکن گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہئے اور گناہوں پر شرمندہ ہوتے رہنا چاہئے۔Gunaahon se Nijaat پانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمارے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے
اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ توبہ کرنے اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے، اور ہر انسان سے کبھی نہ کبھی گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔ لیکن بہترین انسان وہی ہے جو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے، اللہ سے معافی مانگے اور آئندہ نیکی کا راستہ اختیار کرے۔Gunaahon se Nijaat پاۓ ۔شیخ ابراہیم ادہم کی نصیحتوں میں ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ اگر ہم اللہ کے دیے ہوئے رزق پر پل رہے ہیں، اسی کی زمین پر رہ رہے ہیں اور اس کی نظروں سے چھپ نہیں سکتے، تو ہمیں چاہیے کہ اس کے احکامات کی پابندی کریں اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ" (آل عمران: 135)
"اور جب وہ کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر لیتے ہیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔"
لہٰذا، اگر کبھی گناہ ہو جائے، تو اس پر ڈٹے رہنے کے بجائے فوراً رجوع الی اللہ کریں۔ اللہ کی رحمت بے حد وسیع ہے، اور وہ ہر وقت اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
👍🏽 ✍🏻 📩 📤 🔔
Like | Comment | Save | Share | Subscribe
FAQs:
سوال 1: اگر کوئی شخص بار بار گناہ کرتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے، تو کیا اللہ اسے معاف کرے گا؟
جواب: جی ہاں! اللہ تعالیٰ بے حد رحیم ہے اور بار بار توبہ قبول کرتا ہے، جب تک کہ انسان اخلاص کے ساتھ معافی مانگے اور گناہ ترک کرنے کی نیت کرے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اخلاص کے ساتھ توبہ کرے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے، چاہے وہ بار بار گناہ کرے۔" (مسلم)
سوال 2: کیا انسان ایسا وقت جان سکتا ہے جب اس کی توبہ قبول ہو جائے گی؟
جواب: نہیں، انسان یہ نہیں جان سکتا، لیکن ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اگر ہم دل سے توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا، کیونکہ وہ خود فرماتا ہے:
"إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا" (الزمر: 53)
"بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔"
سوال 3: گناہوں سے بچنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟
جواب: گناہوں سے بچنے کے لیے پانچ اہم باتوں پر عمل کرنا چاہیے:
اللہ کا خوف دل میں پیدا کریں کہ وہ ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔
اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں جو نیکی کی طرف مائل کریں۔
نماز اور ذکرِ الٰہی کی پابندی کریں، کیونکہ یہ دل کو پاک کرتی ہے۔
گناہوں کے اسباب سے دور رہیں یعنی برے ماحول اور بری صحبت سے بچیں۔
توبہ کرتے رہیں کیونکہ انسان کمزور ہے اور صرف اللہ کی مدد سے ہی گناہوں سے بچ سکتا ہے۔
0 Comments